عنوان: بند لفٹ کا آخری سفر

رات کے گیارہ بجے، سارا شہر جیسے سو چکا تھا۔ لیکن حامد کے فون پر ایک میسج آیا: “اگر سچ جاننا ہے تو پرانے سول اسپتال کی لفٹ نمبر 3 میں آؤ۔” یہ اسپتال دس سال پہلے بند کر دیا گیا تھا، کہا جاتا تھا کہ یہاں کے آخری فلوڑ پر ہونے والے ایک حادثے … Read more

عنوان: آخری ڈبہ

رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ شہر کی پرانی ریل گاڑی، جو اب صرف ہفتے میں ایک بار چلتی تھی، آہستہ آہستہ پلیٹ فارم نمبر 7 پر آ کر رکی۔ پلیٹ فارم سنسان تھا، صرف چند بکھری ہوئی بلیاں، دور کی مدھم سیٹی، اور اسٹیشن کے بوسیدہ لائٹس کا ہلکا ہلکا جھپکنا۔ علی کا … Read more

عنوان: بارش کی آخری کال

بارش مسلسل کھڑکیوں پر برس رہی تھی، اور علی تنہا اپنے فلیٹ میں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ بجلی کئی بار جا چکی تھی، مگر موبائل میں چارچ سب سے زیادہ قیمتی چیز تھی۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے، فون بجا۔ اسکرین پر کوئی نمبر نہیں تھا — صرف “Unknown Caller” لکھا تھا۔علی نے ہچکچاتے … Read more

عنوان: تیسرا کمرہ

کریم ایک پراپرٹی ڈیلر تھا، لیکن پرانی، ویران عمارتوں کی خریدو فروخت سے ہمیشہ کتراتا تھا۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص اس کے دفتر آیا اور کہا: “میرے پاس ایک حویلی ہے… بہت سستی… لیکن شرط یہ ہے کہ تم اندر کا تیسرا کمرہ کبھی نہیں کھولو گے۔” کریم نے ہنس کر کہا، “پرانے مکانوں … Read more

عنوان: “اندھی کھڑکی”

بارش کا موسم تھا، اور شہر کے مضافات میں ایک پرانا کرائے کا مکان کئی سال سے خالی پڑا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس مکان کی اوپری منزل کی کھڑکی کبھی روشنی نہیں دیتی، چاہے دن ہو یا رات — اسی لیے اسے “اندھی کھڑکی” کہا جاتا تھا۔ عائشہ، جو ایک فری لانس … Read more

عنوان: “چھٹی سیڑھی کا راز”

شہر کے پرانے حصے میں ایک لائبریری تھی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں رات کو قدموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، حالانکہ کوئی موجود نہیں ہوتا۔ احمد، جو پیشے سے ایک رپورٹر تھا، ان کہانیوں کو سن کر ہمیشہ ہنستا تھا۔ لیکن جب اس کے ایڈیٹر نے اسے حکم دیا کہ اس … Read more

عنوان: آخری تصویر

رات کا ساڑھے بارہ بج رہا تھا۔ لاہور کی بارش نے ساری گلیوں کو چمکا دیا تھا، لیکن یہ روشنی خوشی کی نہیں، تنہائی کی تھی۔ سنسان سڑک پر بس ایک ہی آواز گونج رہی تھی — علی کی موٹر سائیکل کی۔ ٹائر پانی کے چھینٹوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، اور بارش … Read more

عنوان: پُرانا قفل (The Old Lock)

رات کے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ کراچی کی پرانی لیاقت مارکیٹ میں آخری دکانیں بند ہو رہی تھیں۔ سڑک سنسان تھی، بس کبھی کبھار کوئی آوارہ کتا بھونکتا یا کسی پرانے سائن بورڈ کا کڑکڑانا سنائی دیتا۔ عامر، ایک پرانا اینٹیـک کلیکٹر، مارکیٹ کے ایک کونے میں موجود چھوٹے سے اسٹور کے سامنے … Read more

عنوان: ریلوے اسٹیشن کا آخری پلیٹ فارم

رات کے ایک بجے کا وقت تھا۔ لاہور کا پرانا ریلوے اسٹیشن، جو کبھی دن میں ہزاروں مسافروں کی چہل پہل سے گونجتا تھا، اب مکمل سنسان تھا۔ بس ایک ٹوٹا ہوا بلب پلیٹ فارم نمبر 7 پر ٹمٹما رہا تھا، جیسے آخری سانسیں لے رہا ہو۔ علی، ایک نوجوان فوٹوگرافر، ہاتھ میں کیمرہ اور … Read more

عنوان: کھڑکی میں کھڑا آدمی

زین، ایک تھکا ہارا شہر کا رہائشی، برسوں سے شور، ہارن اور لوگوں کے ہجوم سے اکتا چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ کچھ دن گاؤں میں سکون سے گزارے۔ ایک دوست کے ذریعے اسے ایک پرانی حویلی کا کمرہ مل گیا، جو گاؤں کے بالکل کنارے ایک سنسان سڑک پر واقع تھی۔ چاروں طرف … Read more