عنوان: تیسرا کمرہ

کریم ایک پراپرٹی ڈیلر تھا، لیکن پرانی، ویران عمارتوں کی خریدو فروخت سے ہمیشہ کتراتا تھا۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص اس کے دفتر آیا اور کہا: “میرے پاس ایک حویلی ہے… بہت سستی… لیکن شرط یہ ہے کہ تم اندر کا تیسرا کمرہ کبھی نہیں کھولو گے۔” کریم نے ہنس کر کہا، “پرانے مکانوں … Read more

عنوان: “اندھی کھڑکی”

بارش کا موسم تھا، اور شہر کے مضافات میں ایک پرانا کرائے کا مکان کئی سال سے خالی پڑا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس مکان کی اوپری منزل کی کھڑکی کبھی روشنی نہیں دیتی، چاہے دن ہو یا رات — اسی لیے اسے “اندھی کھڑکی” کہا جاتا تھا۔ عائشہ، جو ایک فری لانس … Read more

عنوان: “چھٹی سیڑھی کا راز”

شہر کے پرانے حصے میں ایک لائبریری تھی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں رات کو قدموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، حالانکہ کوئی موجود نہیں ہوتا۔ احمد، جو پیشے سے ایک رپورٹر تھا، ان کہانیوں کو سن کر ہمیشہ ہنستا تھا۔ لیکن جب اس کے ایڈیٹر نے اسے حکم دیا کہ اس … Read more

عنوان: آخری تصویر

رات کا ساڑھے بارہ بج رہا تھا۔ لاہور کی بارش نے ساری گلیوں کو چمکا دیا تھا، لیکن یہ روشنی خوشی کی نہیں، تنہائی کی تھی۔ سنسان سڑک پر بس ایک ہی آواز گونج رہی تھی — علی کی موٹر سائیکل کی۔ ٹائر پانی کے چھینٹوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، اور بارش … Read more

عنوان: پُرانا قفل (The Old Lock)

رات کے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ کراچی کی پرانی لیاقت مارکیٹ میں آخری دکانیں بند ہو رہی تھیں۔ سڑک سنسان تھی، بس کبھی کبھار کوئی آوارہ کتا بھونکتا یا کسی پرانے سائن بورڈ کا کڑکڑانا سنائی دیتا۔ عامر، ایک پرانا اینٹیـک کلیکٹر، مارکیٹ کے ایک کونے میں موجود چھوٹے سے اسٹور کے سامنے … Read more

عنوان: ریلوے اسٹیشن کا آخری پلیٹ فارم

رات کے ایک بجے کا وقت تھا۔ لاہور کا پرانا ریلوے اسٹیشن، جو کبھی دن میں ہزاروں مسافروں کی چہل پہل سے گونجتا تھا، اب مکمل سنسان تھا۔ بس ایک ٹوٹا ہوا بلب پلیٹ فارم نمبر 7 پر ٹمٹما رہا تھا، جیسے آخری سانسیں لے رہا ہو۔ علی، ایک نوجوان فوٹوگرافر، ہاتھ میں کیمرہ اور … Read more

عنوان: کھڑکی میں کھڑا آدمی

زین، ایک تھکا ہارا شہر کا رہائشی، برسوں سے شور، ہارن اور لوگوں کے ہجوم سے اکتا چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ کچھ دن گاؤں میں سکون سے گزارے۔ ایک دوست کے ذریعے اسے ایک پرانی حویلی کا کمرہ مل گیا، جو گاؤں کے بالکل کنارے ایک سنسان سڑک پر واقع تھی۔ چاروں طرف … Read more

عنوان: آئینہ جو سچ نہیں دکھاتا

عائشہ کو ہمیشہ سے پرانی چیزوں کا شوق تھا۔ اینٹیک مارکیٹ میں گھومنا، پرانی گھڑیوں، لکڑی کے فریموں اور عجیب و غریب آرٹ کے ٹکڑوں کو دیکھنا، یہ سب اس کی پسندیدہ مصروفیات تھیں۔ جب اسے پتا چلا کہ شہر کے کنارے ایک صدی پرانا مکان سستے داموں بک رہا ہے، تو اس کے دل … Read more

عنوان: کمرہ نمبر 6 کا رازی مسافر

بارش کی رات تھی۔ لاہور سے اسلام آباد جانے والی بس خالی سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ بس میں صرف چند مسافر تھے، سب اپنے کمبل میں لپٹے سو رہے تھے۔ ان سب کے درمیان، علی کھڑکی کے پاس بیٹھا بارش کی بوندوں کو دیکھ رہا تھا۔ بس ہائی وے پر ایک ویران … Read more

عنوان: کال بیل

بارش کی بوندیں چھت پر ایسے بج رہی تھیں جیسے کوئی چھوٹے چھوٹے پتھر پھینک رہا ہو۔ سردی میں نمی کا احساس بڑھ رہا تھا، اور پورا محلہ گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ عائشہ کچن میں کھڑی چائے کا پانی اُبال رہی تھی۔ چائے کی بھاپ اس کے چہرے پر آ رہی تھی، اور … Read more